Showing posts with label Economics in Urdu. Show all posts
Showing posts with label Economics in Urdu. Show all posts

Monday, February 24, 2025

ٹیکسوں کے معیشت پہ اثرات (Effects Of Taxation On Economy)

Written by
Syeda Sadia Amber Jilani

 Economist & Economic Analyst

  حکومت کی آمدنی کے ذرائع 
Source of Government Revenue;

ہر مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی حکومت کو اپنے ملکی فرائض کی ادائیگی کے لئیے آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کی آمدنی کے تین اہم ذرائع ہیں۔ 

1_ ٹیکس   (Tax)

ملکی افراد کی جانب سے حکومت کو کی جانے والی وہ قانونی ادائیگی جو کہ وہ اپنی سالانہ آمدنی و منافع جات اور اشیا و خدمات کی خریداری پہ ادا کرتے ہیں۔


Source of Govt Revenue
Source of Govt Revenue 


2_ سرچارجز (Surcharges)

حکومت کی جانب سے اشیاء و خدمات کے بنیادی اخراجات میں شامل کردہ وہ اضافی فیس جو کہ ان اشیاء و خدمات کی قیمت میں شامل ہوتی ہے۔


3 _ نان ٹیکس ذرائع (Non_Tax Sources)

ٹیکسوں کے علاؤہ بھی حکومت کی آمدنی کے ذرائع ہوتے ہیں ۔ جو بوقت ضرورت استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ جیسے بیرونی تحائف ، اندرونی و بیرونی قرضہ جات ،بیرونی قرضہ جات پہ منافع جات، جرمانے و فیسیں اور سرکاری املاک کی نجکاری و فروخت کاری وغیرہ⇒

⇐ٹیکس (Tax)

تعارف / Introduction;

ٹیکس لاطینی زبان کے لفظ
 "Taxare"
 سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی قدر یا اندازہ کے ہیں۔

ٹیکس حکومت کی آمدنی کا اہم ترین ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ ٹیکس عوام کی جانب سے حکومت کو کی جانے والی ایسی ادائیگی ہے۔ کہ جس کے بدلے انہیں براہء راست تو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ تاہم ٹیکسوں سے حاصل کردہ آمدنی حکومت اجتماعی طور پہ عوام کی بھلائی و ملکی ترقی کے لئیے خرچ کرتی ہے۔

⇐ٹیکس بطور بوجھ / (Tax As Burden);

ٹیکسوں کو صارفین/ ٹیکس ادا کنندگان پہ ایک بوجھ تصور کیا جاتا یے۔ اس سلسلہ میں امریکی ماہر معاشیات میںسگریو نے اسے تین بوجھوں میں تقسیم کیا ہے۔

 

1_ مخصوص بوجھ (Specific Incidence) ;

اس ٹیکس بوجھ میں عوام پہ تو ٹیکس لاگو  کیا جاتا ہے ۔ تاہم حکومتی اخراجات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔


2_ تفرقی بوجھ (Differential Incidence) ;

یہ بوجھ ایک ٹیکس کی جگہ دوسرا ٹیکس لاگو کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس بوجھ کا تعلق سرکاری اخراجات کے برقرار رہتے ہوئے ایک ٹیکس کی جگہ دوسرے ٹیکس کے نفاذ کے تقسیمی اثرات کے تجزیے سے ہے۔ 


3_ متوازن بجٹ بوجھ (Balanced Budget Burden);

جب حکومت اپنے اخراجات بڑھانے کے لئیے کوئی نیا ٹیکس عائد کرتی ہے۔ تو اس ٹیکس بوجھ کو متوازن ٹیکس بوجھ کہا جاتا ہے۔ اس کا تعلق نئے ٹیکس کے نفاذ کے تقسیمی اثرات اور سرکاری اخراجات میں تبدیلی کے تجزیے سے ہے۔


 مگر درحقیقت یہ متوازن بوجھ اسی وقت ہو گا ۔ کہ جب یہ حکومتی اضافی اخراجات عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی معاشی ترقی کے لئیے ہوں۔


ایک سروے کے مطابق ترقی پزیر ممالک جن کی فی کس آمدنی کم تھی۔ وہاں بالواسطہ ٹیکس یا صرفی ٹیکس، کل ٹیکس ریونیو کا 2 تہائی، جبکہ ترقی یافتہ و بلند فی کس آمدنی والے ممالک میں یہ شرح 1/2 رہی۔ کیونکہ کم ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی فی کس آمدنی کم ہونے کی بنا پہ ان پہ انکم ٹیکس کم اور بالواسطہ ٹیکس/صرفی ٹیکس زیادہ لگایا جاتا ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی آمدنیاں زیادہ ہونے کی بنا پہ انکم ٹیکس و منافع ٹیکس کی شرح زیادہ ہوتی ہے ۔ 

 ⇐ٹیکسوں کے اثرات (Effects Of Taxation);

کلاسیکل ماہرین معاشیات کے نظریات میں ٹیکس محض حکومت کی آمدنی کا اہم ذریعہ تھے۔ مگر جدید معاشیات  میں ٹیکس حکومتی آمدنی کے ذریعے کے ساتھ ساتھ معیشت کے اور بھی اہم معاشی متغیرات پہ ضاربی اثرات کے حامل ہیں ۔ اور انہیں ، ان معاشی و حقیقی متغیرات کے کنٹرول کے لئیے بھی بطور ٹولز استعمال کیا جاتا ہے۔

ٹیکس اور نظامِ ٹیکس معیشت کے مختلف اہم شعبوں پہ درج ذیل طریقوں سے اثر انداز ہوتے ہیں۔


Effects of Taxation


1_ ٹیکسوں کے صرف پہ اثرات ؛(Effects of Taxation On Consumption);

جب افراد کی آمدنی پہ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ تو اس سے ان کی قابل تصرف شخصی آمدنی (Disposable income)  میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جس سے ان کی قوتِ خرید میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اور وہ اپنے صرف یعنی اخراجات میں کمی کر دیتے ہیں۔

اسی طرح بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کی بنا پہ بھی صارفین کی قوتِ خرید گر جاتی ہے۔ جس سے صرف میں کمی واقع ہوتی ہے۔  ٹیکس خواہ براہِ راست ہوں یا کہ بالواسطہ یہ صرف میں کمی کا موجب بنتے ہیں۔ اس لئیے جب کبھی حکومت کسی شے کے صرف کو کم کرنا چاہے ۔ تو بھی اس پہ ٹیکس عائد کر دیتی ہے۔


2 _ ٹیکسوں کے بچت پہ اثرات ؛ (Effects of Taxation On Savings);

ٹیکسوں میں اضافے سے لوگوں کی آمدنیاں کم ہو جاتی ہیں۔ جس میں وہ اپنی ضروریاتِ زندگی ہی بمشکل پوری کر پاتے ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافہ بچتوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اور ضاربی اثرات کا حامل ہے۔ کیونکہ ٹیکسوں میں اضافے سے لوگوں کی بچتوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔ بچتوں میں کمی سرمایہ اندوزی (Capital Formation) میں کمی کا موجب بنتی ہے۔ جو آگے سرمایہ کاری میں کمی پھر ملکی پیداراوار میں کمی اور ملکی پیداوار میں کمی لوگوں کی آمدنیوں میں کمی کا باعث بن جاتی ہے۔ دوبارہ آمدنیوں میں کمی دوبارہ بچتوں میں مزید کمی کی وجہ بنتی ہے۔ اس طرح یہ منفی اثرات جب تک کہ گورنمنٹ اعانوں اور ملکی فلاح و ترقی کی صورت میں اپنے اخراجات میں اضافہ نہ کر دے، بڑھتے رہتے ہیں۔


3 _ ٹیکسوں کے سرمایہ کاری و ملکی پیداوار پہ اثرات 
(Effects Of Taxation On Investment and GDP);

ماہر معاشیات جے_ایم_کنیز نے ٹیکسوں کو 'لیک ایج' کا نام دیا ہے۔ کیونکہ یہ آمدنی کا غیر پیداواری استعمال ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافے سے بچتوں اور سرمایہ اندوزی میں کمی، سرمایہ کاری میں کمی کا موجب بن جاتی ہے۔ منافعوں پہ ٹیکسوں کے نفاذ سے سرمایہ کار ایک طرف تو بددل ہو جاتے ہیں۔ کہ ان کی آمدنی گورنمنٹ لے گئی تو دوسری طرف وہ ٹیکسوں کے اضافے کے منفی اثرِ آمدنی و اثرِ دولت کے تحت سرمایہ کاری میں کمی کر دیتے ہیں۔ جس سے ملکی پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جو مزید منفی ضاربی اثرات کا باعث بنتا ہے۔ تاہم اگر حکومت ملکی انفراسٹرکچر کی بہتری اور صنعتوں کے لئیے اعانوں کی فراہمی کے لئیے اپنے اخراجات میں بھی اضافہ کر دے ۔ تو سرمایہ کاری و معاشی ترقی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔


4 _ ٹیکسوں کے روزگار و معیار زندگی پہ اثرات
(Effects of Taxation On Employment And Standard Of Living);

ٹیکسوں میں اضافے سے جب سرمایہ کاری میں کمی ہوتی ہے ۔ تو روزگار و معیارِ زندگی میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم ٹیکسوں کے نفاذ کا ایک اہم مقصد ملکی فلاح و ترقی کے لئیے وسائل کا حصول ہے۔ اور اگر حکومت ٹیکسوں سے حاصل کردہ آمدنی ملکی فلاح و ترقی کے لئیے خرچ کرے ۔ تو ملکی روزگار و معیار زندگی میں اضافہ بھی ممکن ہے۔


5 _ ٹیکسوں کے تقسیمِ دولت پہ اثرات 
(Effects of Taxation On Distribution Of Wealth);

ٹیکس معیشت میں مساویانہ تقسیمِ دولت کے حصول کا بہترین ذریعہ ییں۔ اگر ان کا نفاذ مساویانہ ہو۔  یعنی امیروں پہ زیادہ شرح سے ٹیکس عائد ہو اور متوسط آمدنی والے افراد پہ کم شرح سے، مزید غریب افراد کو ٹیکس سے مستثنی قرار دے دیا جائے۔بابائے معاشیات ایڈم سمتھ نے اس سلسلہ میں چار اہم اصول وضع کیئے ہیں۔

حاصل ء بحث Conclusion; 

ٹیکس جہاں منفی اثرات کے حامل ہیں۔ تو ان کے مثبت اثرات بھی ہیں۔ اگر ان سے حاصل کردہ آمدنی عوام کے فلاح و بہبود اور معاشی ترقی پہ خرچ کی جائے۔ تو ٹیکس "فائدہ مند بوجھ" بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ورنہ عوام پہ محض ایک "تکلیف دہ بوجھ" ہیں۔ 

Thursday, June 13, 2024

بجٹ تعارف و تعریف (Concept of Budget)

Written by
Syeda Sadia Amber Jilani
 Economist & Economic Analyst



تاریخی طور پہ دیکھا جائے۔ تو بجٹ ایک لاطینی زبان کے لفظ "بلگا" اور فرانسیسی لفظ "بوجٹ(Bougette)" سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی  چمڑے کے کسی تھیلے یا بیگ یا پرس کے ہیں۔


اٹھارویں صدی میں برطانیہ کے وزیر خزانہ اور پہلے وزیراعظم مسٹر رابرٹ پول جب پارلیمنٹ میں مالی امور کی منظوری کے لئیے جاتے۔ تو ان کے پاس ایک چمڑے کا تھیلا ہوتا تھا۔ جس میں ملک کے مالی امور سے متعلقہ اہم دستاویزات ہوتیں۔ بعد میں یہ تھیلا "بجٹ" کے نام سے مشہور ہوا۔ یوں تاریخی اعتبار سے بجٹ کا آغاز  1745ء میں برطانیہ سے ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ اصطلاح آمدنی و اخراجات سے بڑھ کر مالیاتی منصوبہ بندی، مالی امور کے نظم و نسق اور ملکی وسائل کی تفویض کاری کے پورے عمل تک وسعت اختیار کر گئی۔

Budget, Budgeting and It's Types

علمِ معاشیات کی رو سے اگر ہم بجٹ کی اصطلاح کی تعریف کریں۔ تو " بجٹ ایک مالیاتی یا زری منصوبہ نما دستاویز ہے۔ جس میں کسی حکومت کو اسے ایک مالی سال کے دوران حاصل ہونے والی وصولیوں جو وہ مختلف ذرائع سے حاصل کرتی ہے۔ اور ایک مالی سال کے دوران کئے جانے والے وہ اخراجات جو وہ مختلف مدوں پر کرتی ہے۔ کو ظاہر کیا جاتا ہے۔  اس میں نئے مالی سال کے ریونیو و اخراجات کے لئیے تخمینہ سازی بھی کی جاتی ہے ۔ اور پچھلے مالی سال کے ریونیو و اخراجات کے اعدادوشمار بھی ظاہر کئیے جاتے ہیں ۔

(Financial Functions of Govt)

کسی بھی ملک کی حکومت کو تین بنیادی مالی فرائض سر انجام دینے پڑتے ہیں۔

Financial Functions of Govt
Financial Functions of Govt 


1_ Economic Stability معاشی استحکام ؛

جس میں ملکی معیشت سے افراط ِ زر و تفریطِ زر کو کنٹرول کرنا نیز بیروزگاری کی سطح کو کم کرنا ہے۔


2_  Economic Growth معاشی ترقی ؛

جس میں ملک کے بنیادی انفراسٹرکچر جن میں ذرائع نقل و حمل ، انفرمیشن ، ٹیکنالوجی کی ترقی اور توانائی کی بہتر و سستی فراہمی ہے۔ مزید مخصوص صنعتوں کو اعانوں کی فراہمی تاکہ ملکی معاشی افزائش یا معاشی گروتھ یعنی ملکی پیداوار خواہ وہ صنعتی ہو یا زرعی (GDP) میں اضافہ ممکن ہو سکے ۔

3_ Economic Welfare ; معاشی فلاح و بہبود 

جس میں ملکی عوام کو صحت و تعلیم ، امن و دفاع، رہائش و نقل و حمل کی سہولیات کی بہتری و اضافہ کرنا شامل ہے۔

کسی بھی حکومت کو اپنے سرکاری معاملات چلانے نیز یہ تمام فرائض ادا کرنے کے لئیے آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاکہ وہ اپنے ان اخراجات کو بخوبی پورا کر سکے۔


حکومت ٹیکسوں ، بیرونی سرمایہ کاری، قرضوں اور امداد وغیرہ سے یہ آمدنی حاصل کرتی ہے۔ اور ان اخراجات کی مدوں میں خرچ کرتی ہے ۔

سرکاری بجٹ کی تین ممکنہ صورتحال ہو سکتی ہیں۔


1_ Balanced Budget متوازن بجٹ ؛


اگر تو حکومت کی آمدنی اور اس کے اخراجات آپس میں برابر ہوں۔ تو ایسے بجٹ کو متوازن بجٹ (Balanced Budget)

، کہا جاتا ہے۔ جہاں

Govt Revenue = Govt Expenditures 


2_Surplus Budget فاضل بجٹ ؛

اگر کسی بجٹ میں حکومت کا ریونیو ، اس کے اخراجات سے بڑھ جائے۔ تو اسے فاضل بجٹ (Surplus Budget) کہا جاتا ہے۔ جو کہ معاشیات دانوں کی نظر میں اچھا تصور نہیں کیا جاتا ۔ کہ اس کا مطلب یہ ہے۔ کہ حکومت عوام سے ٹیکس تو وافر وصول کر رہی ہے۔ مگر ان کی سہولیات اور معاشی ترقی پہ خرچ نہیں کر رہی۔ جس سے بجٹ فاضل بن رہا ہے۔ مگر آج کل کے حالات کے پیش نظر یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی ملک کا بجٹ فاضل بن پائے ۔ جیسے,

Govt Revenue > Govt Expenditures 


3_ Deficit Budget خسارے کا بجٹ ؛

اسی طرح اگر کسی ملک کے اخراجات اس کے ریونیو سے بڑھ جائیں ۔ تو اسے خاسر بجٹ یا خسارے کا بجٹ(Deficit Budget) کہا جاتا ہے۔ جہاں


Govt Revenue < Govt Expenditures 


ترقی پزیر ممالک کا زیادہ تر خاسر بجٹ ہی ہوتا ہے۔ بجٹ میں اس خسارے کے پورا کرنے کے لیئے حکومتوں کو سرکاری و بیرونی قرضہ جات اور امداد کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ بیرونی قرضوں کی فراہمی کے لئیے آئی ۔ ایم۔ ایف ، ورلڈ بنک اور ایسے کئی ادارے و ممالک وغیرہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قرض لینے والے ممالک کو بھاری سود اور کئی پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔


بجٹ سازی کے عمل کو "بجٹنگ" کہا جاتا ہے ۔  کسی ملک کی وزارات خزانہ پچھلے مالی سال کے اعداد و شمار اور نئے مالی سال کے اہداف و تخمینوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگلی مالی مدت کے لئیے بجٹ سازی کا عمل سر انجام دیتی ہے۔ اس کے لئیے وزارتِ خزانہ ملک کے تمام اہم شعبوں سے ڈیٹا حاصل کرتی ہے ۔ 


معاشیات میں بجٹ سازی کے تناظر میں بجٹ کی 9  ممکنہ اقسام ہیں ۔ یا بجٹ 9 طرح کے ہو سکتے ہیں۔ 


1_  جامد بجٹ(Static Budget)


ایک بار بجٹ بننے کے بعد ایسے بجٹ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔  یعنی یہ پورے مالی سال میں جامد رہتا ہے۔



2 لچکدار بجٹ  (Flexible Budget)


ایسے بجٹ کی ایک بار بجٹ سازی کے بعد مالی مدت کے دوران بوقت ضرورت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ یعنی شبعوں میں تفویض کردہ وسائل میں بوقت ء ضرورت تبدیلی ممکن ہے۔ 


3_ فنکشنل بجٹ  (Functional Budget)


ملکی معیشت یا کسی آرگنائزیشن کے ہر شعبے کا اس کی ضرورت کے مطابق الگ الگ بجٹ بنانا فنکشنل بجٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ 


4_ ماسٹر بجٹ  (Master Budget)


فنکشنل بجٹ کا مجموعہ ماسٹر بجٹ ہوتا ہے۔ جس میں معشیت کے تمام شبعہ جات کے الگ الگ بجٹ کو یکجا کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً ،

Master Budget =Production Budget + Marketing Budget +Development Budget + Administration Budget....etc.



5_ زیرو بیسڈ بجٹ   (Zero- Baised Budget)


ماضی کے اعداد و شمار سے صرف نظر کرتے ہوئے حالیہ آمدنی و ضرورت کے مطابق جو نیاء بجٹ بنایا جاتا ہے ۔ جس میں پچھلی مالی مدت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔ اسے زیرو۔ بیسڈ بجٹنگ کہا جاتا ہے۔ سمجھ لیں کہ یہ پہلی بار حالیہ ضرورت کے مطابق ہوتا ہے۔


6_ شراکتی بجٹنگ  (Participative Budgeting)


شراکتی بجٹ، بجٹ سازی کا ایک طریقہ ہے۔ جس میں بجٹ سازی کے عمل میں مختلف اسٹیک ہولڈرز، جیسے شہری، رہائشی، یا  کسی تنظیم کے اراکین شامل ہوتے ہیں۔ اس نقطہء نظر کا مقصد بجٹ سازی کے فیصلوں میں شفافیت، جوابدہی، اور کمیونٹی کی شمولیت کو بڑھانا ہوتا ہے۔

سادہ الفاظ میں بجٹ سازی کے اس طریقہ ء کار میں کسی معیشت یا آرگنائزیشن کی تمام اپر اور لوئر دونوں درجوں کی منجمنٹ تخمینہ سازی میں اپنی رائے دیتی ہے ۔


7_نافذ کردہ بجٹنگ  ( Imposed Budget)


نافذ کردہ بجٹنگ میں بجٹ سازی میں کسی ملک یا آرگنائزیشن کی صرف اپر لیول منیجمنٹ ہی حصہ لیتی ہے۔ اور اسے نافذ کر دیا جاتا ہے ۔ نافذ کردہ بجٹنگ ، شراکتی بجٹنگ کے بلکل منافی بجٹ سازی کا طریقہ ء کار ہے۔ 



ماضی کے اعداد و شمار کو پیش ِ نظر رکھ کر مستقبل کے تخمینوں سے مطابقت رکھتا ہوا جو نئی مالی مدت کے لیئے نیا بجٹ بنایا جاتا ہے۔ اسے رولنگ بجٹ کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر ممالک یا آرگنائزیشنز میں رولنگ بجٹ سازی ہی کی جاتی ہے۔


9_ سالانہ بجٹ  (Annual Budget)


ایک نئے مالی سال کے لئیے کوئی ملک یا آرگنائزیشن اپنے معاشی تخمینوں و اہداف اور اپنی آمدنی و اخراجات کو مد نظر رکھتے ہوئے جو بجٹ تیار کرتی ہے۔ اسے سالانہ بجٹ کہا جاتا ہے۔


حاصل ء بحث ؛ Conclusion 

بجٹ کسی بھی ملک یا آرگنائزیشن کے لیئے ایک دو طرفہ بک کیپنگ کی طرح ہے۔  جس میں ایک طرف اس کی آمدنی ہے۔ تو دوسری طرف اس کی حالیہ و مستقبل کے ترقیاتی اخراجات ہیں۔ جن کی مطابقت کا ایک مخصوص مالی مدت(ایک سال) کے لئیے پلان بجٹ ہے۔

Wednesday, December 13, 2023

Market Equilibrium, Price Ceilings and Price Floors in Economics (Economics in Urdu)

منڈی کا توازن ، زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم قمیت کی حدود


Written by
Syeda Sadia Amber Jilani
 Economist & Economic Analyst


Market Equilibrium / منڈی کا توازن 

مندی کے توازن سے مراد مندی کی وہ حالت ہے۔ جس میں منڈی کی دو اہم قوتیں یعنی کسی شے یا خدمت کی طلب اور رسد آپس میں برابر ہو جاتیں ہیں۔ اور طلب و رسد  کی آپس میں برابری پہ موجود کسی شے کی مقدار، توازنی مقدار اور قیمت ، توازنی قمیت کہلاتی ہے۔

جیسے،

Equilibrium Point -----> Qd = Qs


Price Ceilings / زیادہ سے زیادہ قمیت کی حد ؛

Definition :

Price Ceiling means the legal maximum price of a commodity or service set by the government below the equilibrium point that the sellers or Producers can charge from buyers.

۔Price Ceiling سے مراد کسی شے یا خدمت کی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ وہ زیادہ سے زیادہ قمیت کی حد ہے۔ جو فروخت کار ، خریدار سے وصول کر سکتا ہے۔ حکومت زیادہ تر ضرویات ء زندگی کی اشیاء کی یہ زیادہ سے زیادہ قیمت ان کے خریدار کو فائدہ دینے کے لئیے طے کرتی ہے۔ تاکہ کوئی بھی فروخت کار شے کے خریدار سے اس قیمت سے زیادہ وصول نہ کرے۔ مگر چونکہ یہ زیادہ سے زیادہ قمیت،  نقطہ ء توازن یا توازنی قیمت سے نیچے طے کی جاتی ہے۔ جو کہ منڈی میں شے کی قلت (Shortage) کاسبب بنتی ہے۔ کیونکہ Price Ceilings کے توازنی قیمت سے کم ہونے کی وجہ سے شے کی طلب اس کی رسد سے بڑھ جاتی ہے۔  

Qd > Qs

مثال کے طور پر، اگر حکومت دودھ کے لیے ایک خاص قیمت مقرر کر دے۔ کہ کوئی بھی خریدار اس قیمت سے زیادہ ادا نہ کرے۔ اس سے دودھ کی طلب میں اضافہ ہوگا۔ جب کہ اس کی  رسد میں طلب کے مطابق اضافہ نہیں ہوگا۔ جس سے مارکیٹ میں شے کی قلت پیدا ہو جائے گی۔


Price Floors / کم سے کم قمیت کی حد ;

Definition:

Price Floor means the legal minimum price of a commodity or service set by the government above the equilibrium point that the sellers or Producers can charge from buyers.

۔Price Floor سے مراد کسی شے یا خدمت کی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ وہ کم سے کم قمیت کی حد ہے۔ جس سے کم پہ کوئی فروخت کار اپنی شے یا خدمت نہ فروخت کرے۔ حکومت زیادہ تر زرعی اجناس وغیرہ کی پرائس فلورز مقرر کرتی ہے۔ تاکہ فروخت کار یا کسان وغیرہ کو فائدہ دیا جا سکے۔ 

مگر یہ کم سے کم قمیت،  نقطہ ء توازن یا توازنی قیمت سے اوپر طے کی جاتی ہے۔ جو کہ منڈی میں شے کی اضافی رسد (Surplus) کاسبب بنتی ہے۔ کیونکہ Price Floors کے توازنی قیمت سے زیادہ ہونے کی وجہ سے شے کی اس کی طلب کم اور رسد زیادہ ہوجاتی ہے۔ 

Qd < Qs

مثال کے طور پر، اگر حکومت گندم کی ایک مخصوص قیمت مقرر کرتی ہے۔ کہ کوئی فروخت کنندہ اس قیمت سے کم پر گندم ہرگز فروخت نہ کرے۔ اس سےگندم کی رسد بڑھے گی۔ اور گندم کی طلب کم ہو جائے گی ۔ جس سے مارکیٹ میں گندم کی اضافی رسد کے یا سرپلس پیدا ہو جائے گا۔

Conclusion / ؛ نتیجہ و حاصل ء بحث 

جب کسی شے یا خدمت کی قیمت کی حد، توازنی قیمت سے نیچے یعنی Price Ceiling مقرر کی جاتی ہے، تو اس سے اس شے یا خدمت کی طلب اس کی رسد سے بڑھ جاتی ہے۔  یعنی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔  اس زیادہ طلب کی وجہ سے مارکیٹ میں شے کی قیمت بڑھ جائے گی۔  جسے رسد میں اضافہ اور طلب میں کمی ہو گی۔ آخر کار منڈی کو توازن حاصل ہو جائے گا۔ جہاں طلب و رسد کی قوتیں آپس میں برابر ہو جائیں گی۔ اور منڈی توازنی قیمت پہ آ جائے گی۔

جیسا کہ،

Qd = Qs ---->P*


جب حکومت کی طرف کسی شے کی قیمت کی کم سے کم حد یعنی Price Floors طے کی جاتی ہے۔ تو اس سے منڈی میں شے کی طلب میں کمی اور اضافی رسد یعنی سر پلس وجود میں آجاتا ہے۔ اس اضافی رسد اور طلب میں کمی سے شے کی  قیمت گر جائے گی۔ اور آخر کار منڈی حرکت کرتے نقطہ ء توازن پہ آ جائے گی۔  جہاں نہ تو قلت ہے اور نہ ہی سرپلس۔ 

Qd = Qs---->P* 

 کہ ڈایا گرام میں   بیان کیا گیا ہے۔

Market Equilibrium, Price Ceiling And Price Floor
Market Equilibrium 


Summary / ؛ اہم نکات و

 خلاصہ 

Price Ceilings
میں قمیت کو توازنی قیمت سے نیچے طے کیا جاتا ہے۔ تاکہ کسی شے یا خدمت کی قمیت کو ایک خاص حد سے بڑھنے سے روکا جا سکے۔
  Price Floors
میں قیمت کو توازنی قیمت سے اوپر مقرر کیا جاتا ہے۔ تاکہ کسے شے یا خدمت کی قیمت کو ایک مخصوص حد سے نیچے گرنے سے روکا جا سکے۔




ٹیکسوں کے معیشت پہ اثرات (Effects Of Taxation On Economy)

Written by Syeda Sadia Amber Jilani  Economist & Economic Analyst   حکومت کی آمدنی کے ذرائع   Source of Government Revenue; ہر مالی سال...